Pages

Nov 3, 2010

Pir umar kese kate gi agar wo nahi aaya.......

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا

وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
سوائے گرد سفر ہم سفر نہیں آیا

پَلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صُبح کا بُھولا مگر نہیں آیا

کِسی چراغ نے پُوچھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پُھول میرے نام پر نہیں آیا

چلو کہ کوچئہ قاتل سے ہم ہی ہو آئیں
کہ نخلِ درا پہ کب سے ثمر نہیں آیا!

خُدا کے خوف سے دل لرزتے رہتے ہیں
اُنھیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا

کدھر کو جاتے ہیں رستے، یہ راز کیسے کُھلے
جہاں میں کوئی بھی بارِ دگر نہیں آیا

یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چَین دل کو میرے رات بھر نہیں آیا

ہمیں یقین ہے امجد نہیں وہ وعدہ خلاف
پہ عُمر کیسے کٹے گی، اگر نہیں آیا

still .................

Rab'bi zidni Ilma....

رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 
Who receiveth guidance, receiveth it for his own benefit: who goes astray doth so to his
own loss: no bearer of burdens can bear the burden of another ... - Surah Al-Israa

mera zoq-e-.......